Sukhan AI
غزل

दिल गए आफ़त आई जानों पर

दिल गए आफ़त आई जानों पर
میر تقی میر· Ghazal· 13 shers

یہ غزل عشق میں آنے والی مصیبتوں کا بیان ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ پہلے تو عشق میں ہوش و صبر کی باتیں سنی جاتی تھیں، مگر اب یہ باتیں کانوں پر رکھ دی گئی ہیں۔ یہ غزل کہتی ہے کہ اگرچہ انسان زمین سے وابستہ ہیں، لیکن ان کا ذہن آسمانوں پر ہے، اور شہر کے لڑکے جوانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल गए आफ़त आई जानों पर ये फ़साना रहा ज़बानों पर
میرے دل کو آفت نے جکڑ لیا، میرے جانوں پر۔ یہ قصہ لوگوں کی زبانوں پر بنا رہا۔
5
'अर्श ओ दिल दोनों का है पाया बुलंद सैर रहती है उन मकानों पर
اس کا مطلب ہے کہ دل اور تخت دونوں کی بلندی پر یہ پایا گیا ہے کہ شان دار مکانوں میں سیر جاری ہے۔
6
जब से बाज़ार में है तुझ सी मता' भीड़ ही रहती है दुकानों पर
جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع، دکانوں پر ہمیشہ بھیڑ رہتی ہے۔
8
कजी औबाश की है वो दर-बंद डाले फिरता है बंद शानों पर
کاجی اوباش کا وہ بند دروازہ اب بھی اپنی غمگینی سے شاندار شانوں پر چھایا ہوا ہے۔
9
कोई बोला न क़त्ल में मेरे मोहर की थी मगर दहानों पर
کسی نے میری قتل کی بات نہیں کی، بلکہ ان پر ہوئے جلنے یا زخموں کی بات کی۔
10
याद में उस के साक़-ए-सीमीं की दे दे मारूँ हूँ हाथ रानों पर
یاد میں اُس کے ساقِ-سیمین کی، دے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر۔ (یعنی: उसकी نشہ آور صحبت کی یاد میں، میں عاشقوں کی کلائیوں پر ہاتھ مارنا چاہتی ہوں۔)
12
ग़म ओ ग़ुस्सा है हिस्से में मेरे अब म'ईशत है उन ही खानों पर
غم اور غصہ میرے حصے میں ہے، اور اب میری روزی بھی انہی خانوں پر ہے۔
13
क़िस्से दुनिया में 'मीर' बहुत सुने न रखो गोश उन फ़सानों पर
دنیا کی کہانیوں میں 'میر' نے بہت کچھ سنا ہے، ان افسانوں پر اپنا بھروسہ نہ رکھو۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.