غزل
दिल गए आफ़त आई जानों पर
दिल गए आफ़त आई जानों पर
یہ غزل عشق میں آنے والی مصیبتوں کا بیان ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ پہلے تو عشق میں ہوش و صبر کی باتیں سنی جاتی تھیں، مگر اب یہ باتیں کانوں پر رکھ دی گئی ہیں۔ یہ غزل کہتی ہے کہ اگرچہ انسان زمین سے وابستہ ہیں، لیکن ان کا ذہن آسمانوں پر ہے، اور شہر کے لڑکے جوانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
दिल गए आफ़त आई जानों पर
ये फ़साना रहा ज़बानों पर
دل گئے آفت آئی جانوں پر
یہ فسانہ رہا زبانوں پر
میرے دل کو آفت نے جکڑ لیا، میرے جانوں پر۔ یہ قصہ لوگوں کی زبانوں پر بنا رہا۔
2
'इश्क़ में होश ओ सब्र सुनते थे
रख गए हाथ सो तो कानों पर
عشق میں ہوش و صبر سنتے تھے
رکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر
عشق میں ہوش و صبر سنتے تھے، مگر ہاتھ کانوں پر رکھ دیا۔
3
गरचे इंसान हैं ज़मीं से वले
हैं दिमाग़ उन के आसमानों पर
گرچہ انسان ہیں زمیں سے ولے
ہیں دماغ ان کے آسمانوں پر
اگرچہ انسان ہیں زمین سے، مگر ذہن ان کا آسمانوں پر ہے۔
4
शहर के शोख़ सादा-रू लड़के
ज़ुल्म करते हैं क्या जवानों पर
شہر کے شوخ سادہ رو لڑکے
ظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر
شہر کے شوخ سادہ-رو لڑکے، کیا جوانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
5
'अर्श ओ दिल दोनों का है पाया बुलंद
सैर रहती है उन मकानों पर
عرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلند
سیر رہتی ہے ان مکانوں پر
اس کا مطلب ہے کہ دل اور تخت دونوں کی بلندی پر یہ پایا گیا ہے کہ شان دار مکانوں میں سیر جاری ہے۔
6
जब से बाज़ार में है तुझ सी मता'
भीड़ ही रहती है दुकानों पर
جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع
بھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر
جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع، دکانوں پر ہمیشہ بھیڑ رہتی ہے۔
7
लोग सर देने जाते हैं कब से
यार के पाँव के निशानों पर
لوگ سر دینے جاتے ہیں کب سے
یار کے پاؤں کے نشانوں پر
لوگ کب سے یار کے پاؤں کے نشانوں پر سر دینے جاتے ہیں۔
8
कजी औबाश की है वो दर-बंद
डाले फिरता है बंद शानों पर
کجی اوباش کی ہے وہ دربند
ڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر
کاجی اوباش کا وہ بند دروازہ اب بھی اپنی غمگینی سے شاندار شانوں پر چھایا ہوا ہے۔
9
कोई बोला न क़त्ल में मेरे
मोहर की थी मगर दहानों पर
کوئی بولا نہ قتل میں میرے
مہر کی تھی مگر دہانوں پر
کسی نے میری قتل کی بات نہیں کی، بلکہ ان پر ہوئے جلنے یا زخموں کی بات کی۔
10
याद में उस के साक़-ए-सीमीं की
दे दे मारूँ हूँ हाथ रानों पर
یاد میں اس کے ساق سیمیں کی
دے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر
یاد میں اُس کے ساقِ-سیمین کی، دے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر۔ (یعنی: उसकी نشہ آور صحبت کی یاد میں، میں عاشقوں کی کلائیوں پر ہاتھ مارنا چاہتی ہوں۔)
11
थे ज़माने में ख़र्ची जिन की रुपे
फाँसा करते हैं उन को आनों पर
تھے زمانے میں خرچی جن کی رپے
پھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر
وہ زمانے میں خرچی جن کی روپے
فাঁسا کرتے ہیں اُن کو آںوں پر
12
ग़म ओ ग़ुस्सा है हिस्से में मेरे
अब म'ईशत है उन ही खानों पर
غم و غصہ ہے حصے میں میرے
اب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر
غم اور غصہ میرے حصے میں ہے، اور اب میری روزی بھی انہی خانوں پر ہے۔
13
क़िस्से दुनिया में 'मीर' बहुत सुने
न रखो गोश उन फ़सानों पर
قصے دنیا میں میرؔ بہت سنے
نہ رکھو گوش ان فسانوں پر
دنیا کی کہانیوں میں 'میر' نے بہت کچھ سنا ہے، ان افسانوں پر اپنا بھروسہ نہ رکھو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
