Sukhan AI
غزل

दामन वसीअ' था तो काहे को चश्म तरसा

दामन वसीअ' था तो काहे को चश्म तरसा
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل خدا کی بے پایاں رحمت اور کرم کے موضوع پر ہے، جو بتاتی ہے کہ اگر दामن ہی وسیع تھا، تو پھر پیاس بجھانے کے لیے چشمے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ زندگی میں موجود الہی فضل و کرم کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ اشعار میں الہامی تحفظ اور الہی مرضی کے تحت انسانی وجود کی حالت پر غور کیا گیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दामन वसीअ' था तो काहे को चश्म तरसा रहमत ख़ुदा की तुझ को अब्र ज़ोर बरसा
دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا۔ رحمت ख़ुदा کی تجھ کو اے ابر زور برسا۔ معنی: اگر تیرا دامن (پल्लू) ہی وسیع تھا، تو تو پانی کے برتن کے لیے کیوں تڑپتا۔ اے بادل، تجھ پر رحمت خدا کی زور سے برسا۔ भाव: یہ اشارہ کرتا ہے کہ اگر کسی کے پاس کافی وسائل یا فضل (دامن وسیع) موجود ہیں، تو باہر کے سہارے (چشم) کی طرف تڑپنے کی کیا ضرورت ہے۔ لہٰذا، اے بادل، خدا کی مہربانی زور سے برسے۔
2
शायद कबाब कर कर खाया कबूतर उन ने नामा उड़ा फिरे है उस की गली में पर सा
شاید کبوتروں نے کباب کھائے، اور اس کی گلی میں ان کا نام پھیلا دیا، پر کوئی بات نہیں، میرے پیارے۔
3
वहशी मिज़ाज अज़-बस मानूस बादया हैं उन के जुनूँ में जंगल अपना हुआ है घर सा
یہ وحشی مزاج محض انسان کی بناوٹ ہے، مگر ان کے جنوں میں جنگل کا اپنا گھر جیسا ہو جانا ہے۔
4
जिस हाथ में रहा की उस की कमर हमेशा उस हाथ मारने का सर पर बँधा है कर सा
جس ہاتھ میں رہا کی اس کی کمر ہمیشہ/اس ہاتھ مارنے کا سر پر بندھا ہے کر سا۔ مطلب یہ ہے کہ جس بھی ہاتھ نے اسے تھاما، اس کی کمر ہمیشہ اس ہاتھ کے سر پر مارنے کی طرح ایک خوف یا نشان لیے ہوئے ہے۔
5
सब पेच की ये बातें हैं शा'इरों की वर्ना बारीक और नाज़ुक मू कब है उस कमर सा
یہ سب پیچ کی باتیں ہیں شاعروں کی، ورنہ باریک اور نازک مو کب ہے اُس کمر سا۔
6
तर्ज़-ए-निगाह उस की दिल ले गई सभों के क्या मोमिन बरहमन क्या गब्र और तरसा
اس کی نظروں کا انداز سب کے دل لے گیا، چاہے وہ مومن ہو، برہمن ہو، گبر ہو یا ترسا۔
7
तुम वाकि़फ़-ए-तरीक़-ए-बेताक़ती नहीं हो याँ राह-ए-दो-क़दम है अब दूर का सफ़र सा
تم واقف نہیں ہو کہ یہ راستہ بے تھک کوشش کا ہے، یہ راہ تو اب دو قدم دور کے سفر جیسی ہے۔
8
कुछ भी 'आश है ये की उन ने एक चश्मक जब मुद्दतों हमारा जी देखने को तरसा
یہ کیا بات ہے کہ انہوں نے صرف ایک نظر ڈالی، جب بہت عرصے سے ہمارا دل دیکھنے کو تڑپ رہا تھا۔
9
टुक तर्क-ए-'इश्क़ करिए लाग़र बहुत हुए हम आधा नहीं रहा है अब जिस्म-ए-रंज-फ़र्सा
اے، عشق کی ترقبات کر کے لگے بہت ہوئے ہم؛ میرا جسم، جو غم سے پریشان ہے، اب آدھا بھی نہیں رہا۔
10
वा'इज़ को ये जलन है शायद कि फ़रबही से रहता है हौज़ ही में अक्सर पड़ा मगर सा
شاید واعظ کو یہ جلن ہے کہ فربہئی سے، وہ اکثر حوض میں پڑا رہتا ہے مگر س۔
11
अंदाज़ से है पैदा सब कुछ ख़बर है उस को गो 'मीर' बे-सर-ओ-पा ज़ाहिर है बे-ख़बर सा
ہر چیز انداز سے پیدا ہوتی ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے۔ گو 'میر' کا انداز سر و پا کے بغیر بھی ظاہر ہے، چاہے وہ بے خبر ہو۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.