غزل
کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے
کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے
یہ غزل تنہائی، توکل اور دنیاوی سہاروں سے دوری کے جذبے کی ترجمانی کرتی ہے، جہاں خدا کے سوا کسی سے آس نہیں رکھی جاتی۔ اس میں دلوں کی خاموش شکستگی اور بغیر کسی صدا کے ٹوٹ کر بکھر جانے کے المیے کو نہایت باوقار اور پرتاثیر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
कोई अनीस कोई आश्ना नहीं रखते
किसी की आस बग़ैर अज़ ख़ुदा नहीं रखते
کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے
کسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتے
ہم نہ تو کوئی ساتھی یا شناسا رکھتے ہیں، اور نہ ہی خدا کے سوا کسی سے کوئی امید رکھتے ہیں۔
2
किसी को क्या हो दिलों की शिकस्तगी की ख़बर
कि टूटने में ये शीशे सदा नहीं रखते
کسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبر
کہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے
کسی کو دلوں کے ٹوٹنے کی خبر کیسے ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ شیشے ٹوٹتے وقت کوئی آواز نہیں کرتے۔
3
फ़क़ीर दोस्त जो हो हम को सरफ़राज़ करे
कुछ और फ़र्श ब-जुज़ बोरिया नहीं रखते
فقیر دوست جو ہو ہم کو سرفراز کرے
کچھ اور فرش بجز بوریا نہیں رکھتے
جو شخص فقیروں سے محبت یا دوستی رکھتا ہو وہ ہمارے ہاں آ کر ہمیں عزت بخشے، کیونکہ ہمارے پاس بچھانے کے لیے بوریے (چٹائی) کے سوا کچھ نہیں ہے۔
4
मुसाफ़िरो शब-ए-अव्वल बहुत है तीरा ओ तार
चराग़-ए-क़ब्र अभी से जला नहीं रखते
مسافرو شب اول بہت ہے تیرہ و تار
چراغ قبر ابھی سے جلا نہیں رکھتے
اے مسافرو، پہلی رات انتہائی تاریک اور سیاہ ہوتی ہے؛ قبر کا چراغ پہلے سے جلا کر نہیں رکھا جاتا۔
5
वो लोग कौन से हैं ऐ ख़ुदा-ए-कौन-ओ-मकाँ
सुख़न से कान को जो आश्ना नहीं रखते
وہ لوگ کون سے ہیں اے خدائے کون و مکاں
سخن سے کان کو جو آشنا نہیں رکھتے
اے ساری کائنات کے پروردگار، وہ کون لوگ ہیں جو اپنے کانوں کو شعر و سخن سے آشنا نہیں رکھتے؟
6
मुसाफ़िरान-ए-अदम का पता मिले क्यूँकर
वो यूँ गए कि कहीं नक़्श-ए-पा नहीं रखते
مسافران عدم کا پتہ ملے کیونکر
وہ یوں گئے کہ کہیں نقش پا نہیں رکھتے
عدم کے مسافروں کا سراغ کیسے مل سکتا ہے؟ وہ اس طرح گئے کہ اپنے پیچھے قدموں کا کوئی نشان تک نہیں چھوڑا۔
7
तप-ए-दरूँ ग़म-ए-फ़ुर्क़त वरम-ए-पयादा-रवी
मरज़ तो इतने हैं और कुछ दवा नहीं रखते
تپ دروں غم فرقت ورم پیادہ روی
مرض تو اتنے ہیں اور کچھ دوا نہیں رکھتے
اندرونی بخار، جدائی کا دکھ اور پیدل چلنے سے ہونے والی سوجن؛ بیماریاں تو اتنی زیادہ ہیں مگر میرے پاس ان کا کوئی علاج یا دوا نہیں ہے۔
8
खुलेगा हाल उन्हें जब कि आँख बंद हुई
जो लोग उल्फ़त-ए-मुश्किल-कुशा नहीं रखते
کھلے گا حال انہیں جب کہ آنکھ بند ہوئی
جو لوگ الفت مشکل کشا نہیں رکھتے
جو لوگ مشکل کشا سے محبت نہیں رکھتے، ان پر ان کا اصل حال اس وقت کھلے گا جب ان کی آنکھیں بند ہوں گی یعنی موت واقع ہوگی۔
9
जहाँ की लज़्ज़त ओ ख़्वाहिश से है बशर का ख़मीर
वो कौन हैं कि जो हिर्स-ओ-हवा नहीं रखते
جہاں کی لذت و خواہش سے ہے بشر کا خمیر
وہ کون ہیں کہ جو حرص و ہوا نہیں رکھتے
انسان کی فطرت اور خمیر دنیا کی لذت اور خواہشات سے بنی ہے، بھلا ایسا کون ہے جس کے اندر لالچ اور ہوس نہ ہو؟
10
'अनीस' बेच के जाँ अपनी हिन्द से निकलो
जो तोशा-ए-सफ़र-ए-कर्बला नहीं रखते
انیسؔ بیچ کے جاں اپنی ہند سے نکلو
جو توشۂ سفر کربلا نہیں رکھتے
اے انیس! اگر تمہارے پاس کربلا کے سفر کا توشہ اور خرچ نہیں ہے، تو اپنی جان بیچ کر بھی ہندوستان سے روانہ ہو جاؤ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
