“An inward fever, the grief of parting, feet swollen from wandering so far—afflictions are indeed so many, yet I keep no remedy at all.”
اندرونی بخار، جدائی کا دکھ اور پیدل چلنے سے ہونے والی سوجن؛ بیماریاں تو اتنی زیادہ ہیں مگر میرے پاس ان کا کوئی علاج یا دوا نہیں ہے۔
اس شعر میں شاعر نے عشق کے جسمانی اور باطنی اثرات کو دلکش انداز میں سمیٹا ہے—اندر سلگتا ہوا بخار، فراق کا غم اور دشت نوردی کی تھکن سے پاؤں کی سوجن۔ اتنی ساری بیماریاں گنوانے کے بعد وہ کمال سادگی اور بیچارگی سے کہتا ہے کہ پاس علاج کے نام پر کوئی دوا نہیں۔ دراصل عاشق نے اس رنج کو بخوشی اپنا لیا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے درد کا مداوا کسی دواخانے میں نہیں بلکہ صرف محبوب کے وصل میں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
