“The mortal clay is kneaded from the world's delight and craving; who is there upon this earth that harbors neither greed nor longing?”
انسان کی فطرت اور خمیر دنیا کی لذت اور خواہشات سے بنی ہے، بھلا ایسا کون ہے جس کے اندر لالچ اور ہوس نہ ہو؟
شاعر نے یہاں نہایت خوبصورت انداز میں واضح کیا ہے کہ انسان کا خمیر ہی دنیا کی لذتوں اور آرزوؤں کی مٹی سے گوندھا گیا ہے۔ یعنی حرص اور خواہش کوئی الگ برائی نہیں بلکہ ہماری فطرت کا لازمی حصہ ہیں۔ جب وہ پوچھتے ہیں کہ ایسا کون ہے جو تمنا اور لالچ سے پاک ہو، تو دراصل وہ انسانی فطرت کی اس بنیادی بے بسی کو بڑی اپنائیت اور ہمدردی سے تسلیم کر رہے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
