“Who are those people, O Lord of all creation, / Whose ears remain strangers to the art of verse?”
اے ساری کائنات کے پروردگار، وہ کون لوگ ہیں جو اپنے کانوں کو شعر و سخن سے آشنا نہیں رکھتے؟
شاعر کائنات کے پروردگار سے بڑی حیرت اور معصومانہ حسرت کے ساتھ پوچھتا ہے کہ آخر وہ کیسے بدقسمت لوگ ہیں جن کے کان شاعری کی شیرینی اور لطافت سے محروم ہیں۔ اُس کی نظر میں سخن محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ روح کی پکار اور جذبات کی معراج ہے۔ جو دل شعر و سخن کے حسن اور درد سے ناآشنا ہیں، شاعر کو اُن کا وجود اس خوبصورت دنیا میں بے حد ویران اور بے رنگ محسوس ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
