“Let whoever befriends a dervish honor us with his grace; save for a humble reed-mat, no carpet lines our place.”
جو شخص فقیروں سے محبت یا دوستی رکھتا ہو وہ ہمارے ہاں آ کر ہمیں عزت بخشے، کیونکہ ہمارے پاس بچھانے کے لیے بوریے (چٹائی) کے سوا کچھ نہیں ہے۔
شاعر یہاں بڑے فخر اور سادگی کے ساتھ اپنے درویشانہ اندازِ زیست کو بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمارے غریب خانے پر صرف وہی تشریف لائے جو کسی فقیر کی سچائی کو دل سے قبول کر سکے، کیونکہ ہمارے پاس مہمان نوازی کے لیے ریشمی قالین نہیں بلکہ صرف خلوص کی چٹائی (بوریا) ہے۔ یہ شعر ظاہری شان و شوکت کے مقابلے میں باطنی پاکیزگی اور بے لوث محبت کی دعوت دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
