“Sell your very life, O Anis, and depart from Hind, if you lack the provisions for the journey to Karbala.”
اے انیس! اگر تمہارے پاس کربلا کے سفر کا توشہ اور خرچ نہیں ہے، تو اپنی جان بیچ کر بھی ہندوستان سے روانہ ہو جاؤ۔
میر انیسؔ اس شعر میں کربلا کے مقدس سفر کی تڑپ اور بے پناہ عقیدت کا والہانہ اظہار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس پاک سفر پر جانے کے لیے زادِ راہ یعنی وسائل موجود نہیں، تو اپنی جان تک بیچ کر یہ توشہ حاصل کرو اور فوراً روانہ ہو جاؤ۔ یہاں 'جان بیچنے' کا استعارہ اس بات کی علامت ہے کہ سچی محبت اور روحانی مقصد کے سامنے دنیاوی زندگی کی کوئی وقعت نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
