“O travelers, the very first night is steeped in darkest gloom; / One does not light ahead of time the candle of the tomb.”
اے مسافرو، پہلی رات انتہائی تاریک اور سیاہ ہوتی ہے؛ قبر کا چراغ پہلے سے جلا کر نہیں رکھا جاتا۔
شاعر زندگی کے سفر پر نکلے مسافروں کو ایک خیر خواہ کی طرح سمجھاتے ہیں کہ لحد کی پہلی رات واقعی بڑی تاریک اور کٹھن ہوتی ہے۔ اس لیے اپنے صبر، امید اور اندرونی روشنی کو وقت سے پہلے ہی جلا کر ختم نہ کر بیٹھو۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انجام کے خوف میں جیتے جی خود کو حسرتوں کی نذر کر دینا دانشمندی نہیں، بلکہ آخری اندھیرے کے لیے اپنے دل کا چراغ سنبھال کر رکھنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
