“The truth shall dawn upon them only when their eyes close in death, those who hold no love in their hearts for the Solver of all Sorrows.”
جو لوگ مشکل کشا سے محبت نہیں رکھتے، ان پر ان کا اصل حال اس وقت کھلے گا جب ان کی آنکھیں بند ہوں گی یعنی موت واقع ہوگی۔
شاعر نے یہاں آنکھ بند ہونے یعنی موت کو حقیقت کے آشکار ہونے سے جوڑا ہے، جو تصوف اور محبت کا ایک خوبصورت زاویہ ہے۔ 'مشکل کشا' روایتی طور پر حضرت علیؓ کا لقب ہے، جن کی محبت کو مومن کے لیے سب سے بڑا روحانی سہارا مانا گیا ہے۔ یہ شعر ہمیں پیار سے یاد دلاتا ہے کہ جو لوگ زندگی میں اس قلبی تعلق اور عقیدت سے غافل رہتے ہیں، ان کی آنکھیں اصل سچائی پر تب کھلیں گی جب اس فانی دنیا کا وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
