“How could anyone ever know of the shattering of hearts, when in their breaking, these glasses make no sound?”
کسی کو دلوں کے ٹوٹنے کی خبر کیسے ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ شیشے ٹوٹتے وقت کوئی آواز نہیں کرتے۔
شاعر نے دل کی نزاکت کو شیشے سے تشبیہ دی ہے لیکن ایک گہرے درد کے ساتھ، کہ شیشہ ٹوٹے تو صدا بلند ہوتی ہے مگر دل اتنی خاموشی سے ریزہ ریزہ ہوتا ہے کہ دنیا بے خبر رہتی ہے۔ یہ شعر اس پوشیدہ المیے کی ترجمانی کرتا ہے جسے انسان تنہائی میں سہتا ہے، جہاں باہر سے سب کچھ معمول پر دکھتا ہے مگر اندر ایک جہان برباد ہو چکا ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
