“No companion do I keep, no familiar friend beside; except in God alone, in no one does my hope abide.”
ہم نہ تو کوئی ساتھی یا شناسا رکھتے ہیں، اور نہ ہی خدا کے سوا کسی سے کوئی امید رکھتے ہیں۔
یہ شعر ایک ایسی پُرسکون تنہائی کی تصویر کشی کرتا ہے جو مایوسی یا تکبر سے نہیں، بلکہ توکل اور خودداری سے جنم لیتی ہے۔ شاعر نے دنیاوی رشتوں اور دوستوں کی محتاجی سے خود کو اس لیے آزاد کر لیا ہے تاکہ دل فانی سہاروں کی آس میں نہ بھٹکے۔ جب ساری امیدیں محض خدا کی ذات سے وابستہ ہو جائیں، تو انسان دنیا کے گلے شکووں سے بے نیاز ہو کر ایک لازوال اطمینان پا لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
