غزل
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
یہ غزل ایک باوقار اور بے خوف فلسفۂ حیات کی ترجمانی کرتی ہے، جس کے مطابق حقیقی جینے کے لیے قربانی اور موت کا سامنا کرنے کا حوصلہ ضروری ہے۔ اس میں عشق، خودداری اور بے خودی کی کیفیات کو نہایت پرجوش اور بلند آہنگ انداز میں سراہا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ये मिस्रा काश नक़्श-ए-हर-दर-ओ-दीवार हो जाए
जिसे जीना हो मरने के लिए तय्यार हो जाए
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے
کاش یہ مصرع ہر دروازے اور دیوار پر کندہ ہو جائے کہ جسے جینا ہے، اسے مرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
2
वही मय-ख़्वार है जो इस तरह मय-ख़्वार हो जाए
कि शीशा तोड़ दे और बे-पिए सरशार हो जाए
وہی مے خوار ہے جو اس طرح مے خوار ہو جائے
کہ شیشہ توڑ دے اور بے پیے سرشار ہو جائے
سچا شرابی وہی ہے جو اس طرح شراب پئے کہ وہ جام توڑ دے اور بغیر پئے ہی مدہوش ہو جائے۔
3
दिल-ए-इंसाँ अगर शाइस्ता-ए-असरार हो जाए
लब-ए-ख़ामोश-फ़ितरत ही लब-ए-गुफ़्तार हो जाए
دل انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائے
لب خاموش فطرت ہی لب گفتار ہو جائے
اگر انسان کا دل رازوں اور بھیدوں کو سمجھنے کے لائق ہو جائے، تو فطرت کے خاموش ہونٹ ہی بولنے والے ہونٹ بن جائیں۔
4
हर इक बे-कार सी हस्ती ब-रू-ए-कार हो जाए
जुनूँ की रूह-ए-ख़्वाबीदा अगर बेदार हो जाए
ہر اک بے کار سی ہستی بروئے کار ہو جائے
جنوں کی روح خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے
اگر جنون کی سوئی ہوئی روح جاگ اٹھے تو ہر بظاہر بےکار وجود بھی باعمل اور مفید بن جائے۔
5
सुना है हश्र में हर आँख उसे बे-पर्दा देखेगी
मुझे डर है न तौहीन-ए-जमाल-ए-यार हो जाए
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی
مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے
سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر آنکھ محبوب کو بے پردہ دیکھے گی، لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سے میرے محبوب کے حسن کی توہین نہ ہو جائے۔
6
हरीम-ए-नाज़ में उस की रसाई हो तो क्यूँकर हो
कि जो आसूदा ज़ेर-ए-साया-ए-दीवार हो जाए
حریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہو
کہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے
جو شخص دیوار کے سائے تلے ہی مطمئن ہو کر بیٹھ جائے، اس کی رسائی محبوب کے مقدس خلوت کدے تک بھلا کیسے ہو سکتی ہے؟
7
मआ'ज़-अल्लाह उस की वारदात-ए-ग़म मआ'ज़-अल्लाह
चमन जिस का वतन हो और चमन-बे-ज़ार हो जाए
معاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہ
چمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے
خدا پناہ میں رکھے، اس کے غم کا کیسا دلدوز واقعہ ہے کہ جس کا وطن ہی باغ تھا، وہی اپنے باغ سے بیزار اور اکتاہٹ کا شکار ہو جائے۔
8
यही है ज़िंदगी तो ज़िंदगी से ख़ुद-कुशी अच्छी
कि इंसाँ आलम-ए-इंसानियत पर बार हो जाए
یہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھی
کہ انساں عالم انسانیت پر بار ہو جائے
اگر زندگی یہی ہے کہ انسان پوری انسانیت پر بوجھ بن جائے، تو ایسی زندگی سے خودکشی بہتر ہے۔
9
इक ऐसी शान पैदा कर कि बातिल थरथरा उट्ठे
नज़र तलवार बन जाए नफ़स झंकार हो जाए
اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھے
نظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہو جائے
اپنے اندر ایسی شان اور وقار پیدا کرو کہ باطل کانپ اٹھے، تمہاری نظر تلوار بن جائے اور تمہاری سانس تلوار کی جھنکار بن جائے۔
10
ये रोज़ ओ शब ये सुब्ह ओ शाम ये बस्ती ये वीराना
सभी बेदार हैं इंसाँ अगर बेदार हो जाए
یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ
سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے
یہ دن رات، صبح و شام، بستیاں اور ویرانے سب جاگ رہے ہیں؛ کائنات کی ہر چیز بیدار ہے، کاش انسان بھی خود کو بیدار اور باشعور کر لے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
