معاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہ چمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے

“Heaven protect us from such tragedy of grief, heaven protect us! / That one whose homeland was the garden should grow weary of the garden.”

— جگر مرادآبادی
معنی

خدا پناہ میں رکھے، اس کے غم کا کیسا دلدوز واقعہ ہے کہ جس کا وطن ہی باغ تھا، وہی اپنے باغ سے بیزار اور اکتاہٹ کا شکار ہو جائے۔

تشریح

یہ شعر اس انتہا درجے کے دکھ کی عکاسی کرتا ہے جب انسان اس جگہ سے بھی بیزار ہو جائے جو کبھی اس کا اصل مسکن اور راحت تھی۔ شاعر ’معاذ اللہ‘ کہہ کر اس سانحے پر دہل اٹھتا ہے کہ کوئی ایسا وجود، جس کا وطن ہی خوبصورت گلشن تھا، غم کی شدت سے اسی گلشن سے بیزار ہو گیا۔ یہ دراصل گہری مایوسی اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا وہ عالم ہے جہاں زندگی کا حسن اور اپنے وجود کی پناہ گاہ بھی روح پر بوجھ بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.