“Cultivate such majesty that falsehood begins to tremble; let your gaze turn into a sword, and your breath ring out like steel.”
اپنے اندر ایسی شان اور وقار پیدا کرو کہ باطل کانپ اٹھے، تمہاری نظر تلوار بن جائے اور تمہاری سانس تلوار کی جھنکار بن جائے۔
یہ شعر انسان کے اندر خودداری، ایمانی جلال اور حق گوئی کا جذبہ بیدار کرنے کا ایک پرجوش پیغام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اپنی ذات میں سچائی کا ایسا وقار پیدا کرو کہ باطل تمہارے روبرو تھرتھرا اٹھے، تمہاری نگاہ شمشیر بن کر کاٹ کرے اور سانسوں کی روانی میں فولاد کی جھنکار ہو۔ اس کا گہرا مفہوم یہ ہے کہ باطل کو مٹانے کے لیے کردار میں وہ بے باکی اور رعب ہونا چاہیے جو بذاتِ خود حق کی سب سے بڑی فتح بن جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
