دل انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائے لب خاموش فطرت ہی لب گفتار ہو جائے

“If the human heart becomes worthy of the hidden mysteries, the silent lips of Nature itself would turn to eloquent speech.”

— جگر مرادآبادی
معنی

اگر انسان کا دل رازوں اور بھیدوں کو سمجھنے کے لائق ہو جائے، تو فطرت کے خاموش ہونٹ ہی بولنے والے ہونٹ بن جائیں۔

تشریح

یہ خوبصورت شعر انسان اور فطرت کے درمیان ایک پُراسرار اور گہرے رشتے کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کائنات بے زبان نہیں ہے، بس انسان کے دل میں ان الٰہی رازوں کو محسوس کرنے کا ظرف اور پاکیزگی ہونی چاہیے۔ جب ہماری روح اور دل اس قابل ہو جاتے ہیں، تو قدرت کا ہر خاموش منظر ہمارے ساتھ ہم کلام ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.