حریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہو کہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے

“How could one ever gain access to grace's sacred shrine, who rests contented merely in the shadow of the wall?”

— جگر مرادآبادی
معنی

جو شخص دیوار کے سائے تلے ہی مطمئن ہو کر بیٹھ جائے، اس کی رسائی محبوب کے مقدس خلوت کدے تک بھلا کیسے ہو سکتی ہے؟

تشریح

شاعر یہاں عشق اور بلند مقاصد کے سفر کی ایک بڑی نازک حقیقت بیان کر رہے ہیں۔ ’حریمِ ناز‘ محبوب کی بارگاہِ قربت کا وہ مقدس مقام ہے جہاں پہنچنے کے لیے سخت لگن درکار ہوتی ہے، جبکہ ’سایۂ دیوار‘ راستے کی ایک عارضی اور معمولی راحت ہے۔ شاعر پیار سے سمجھاتے ہیں کہ جو مسافر محض بیرونی دیوار کے سائے میں مطمئن ہو کر بیٹھ جائے، وہ بھلا محبوب کے اصل جلووں اور دلی نزدیکی تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.