یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے

“These days and nights, this dawn and dusk, the city and wilderness bare; All are awake and watchful, if only man would become aware.”

— جگر مرادآبادی
معنی

یہ دن رات، صبح و شام، بستیاں اور ویرانے سب جاگ رہے ہیں؛ کائنات کی ہر چیز بیدار ہے، کاش انسان بھی خود کو بیدار اور باشعور کر لے۔

تشریح

شاعر کائنات کے نظام یعنی دن رات کے تسلسل، صبح و شام کے پہروں، بستیوں اور ویرانوں کا خوبصورت نقشہ کھینچ کر کہتا ہے کہ قدرت کی ہر شے اپنے وجود اور مقصد سے پوری طرح باخبر ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سب کچھ بیدار ہے مگر اشرف المخلوقات کہلانے والا انسان غفلت کی نیند سویا ہوا ہے۔ یہ شعر دراصل انسان کے لیے ایک بیداری کی پکار ہے کہ کاش وہ اپنے ضمیر اور شعور کو جگا کر اس جاگتی ہوئی کائنات کی اصل سچائی کو پا سکے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev10 / 10