ہر اک بے کار سی ہستی بروئے کار ہو جائے جنوں کی روح خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے

“Every idle, futile existence would find purpose and be brought to bear, if only the slumbering spirit of passion were awakened there.”

— جگر مرادآبادی
معنی

اگر جنون کی سوئی ہوئی روح جاگ اٹھے تو ہر بظاہر بےکار وجود بھی باعمل اور مفید بن جائے۔

تشریح

یہ شعر انسان کے اندر سوئے ہوئے جنون اور جذبے کی بے پناہ طاقت کا دلکش بیان ہے۔ شاعر کا ماننا ہے کہ کوئی بھی زندگی درحقیقت بے مصرف نہیں ہوتی، بلکہ اس کا حقیقی جوہر محض غفلت کی نیند میں ہوتا ہے۔ جونہی دل میں کسی مقصد کا سچا ولولہ اور جنون جاگ اٹھتا ہے، وہی بظاہر بے کار نظر آنے والا وجود یکایک بامقصد ہو کر کارہائے نمایاں انجام دینے لگتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.