سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے

“I hear that on Judgment Day every eye shall see the Beloved unveiled; I fear lest this become an affront to the sacred beauty of my love.”

— جگر مرادآبادی
معنی

سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر آنکھ محبوب کو بے پردہ دیکھے گی، لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سے میرے محبوب کے حسن کی توہین نہ ہو جائے۔

تشریح

اس شعر میں عاشق کی بے پناہ عقیدت اور غیرتِ محبت کا بڑا لطیف اظہار ہے۔ عام تصور ہے کہ روزِ محشر محبوب سب کے سامنے بے پردہ جلوہ گر ہوگا، لیکن عاشق کا دل کانپ اٹھتا ہے کہ نااہل اور عام نگاہیں اس حسن کا تقدس نہیں سمجھ پائیں گی۔ اس کے نزدیک محبوب کا جمال اتنا پاکیزہ اور یکتا ہے کہ ہر کس و ناکس کا اسے سرِعام دیکھنا اس کے حسن کی بے توقیری کے مترادف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.