یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے

“Would that this verse were etched upon each door and wall: whoever wishes to live must be prepared to die.”

— جگر مرادآبادی
معنی

کاش یہ مصرع ہر دروازے اور دیوار پر کندہ ہو جائے کہ جسے جینا ہے، اسے مرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

تشریح

یہ شعر عزتِ نفس اور جراتِ رندانہ کا ایک پرجوش پیغام ہے۔ شاعر تمنا کرتا ہے کہ یہ سچائی بستی کے ہر در و دیوار پر لکھی جائے تاکہ سب جان لیں کہ خوف اور بزدلی کی حالت میں سانس لینا دراصل جینا نہیں ہے۔ حقیقی اور باوقار زندگی صرف اسی کا مقدر بنتی ہے جو اپنے اصولوں اور خودداری کی خاطر موت کے خطرے سے گزرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 10Next →