“He alone is the true drinker who drinks in such a way, that he shatters the glass and is intoxicated without drinking a drop.”
سچا شرابی وہی ہے جو اس طرح شراب پئے کہ وہ جام توڑ دے اور بغیر پئے ہی مدہوش ہو جائے۔
یہ شعر نشے اور سرمستی کے روایتی مفہوم کو بدل کر روحانی اور باطنی کیفیت کی طرف لے جاتا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ سچا رند وہ ہے جسے نشے کے لیے ظاہری جام و مینا کی محتاجی نہ ہو، بلکہ وہ عشق اور خود فراموشی کے اس مقام پر پہنچ جائے جہاں بغیر پیے ہی سرور مل جائے۔ یہاں شیشہ توڑنا مادی واسطوں سے آزادی کی علامت ہے، جہاں محبت کا خالص جذبہ انسان کو خود بخود مدہوش کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
