غزل

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جگر مرادآبادی· Ghazal· 10 shers

یہ غزل حسن و عشق کے اس لازوال اثر کو بیان کرتی ہے جو دلوں کو مسخر کر کے دنیا کی اصل فتح بن جاتا ہے۔ اس میں محبوب کے کمالِ حسن، دلکش اداؤں اور عاشق کے جذبۂ صادق کو روایتی کلاسیکی چاشنی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
वो अदा-ए-दिलबरी हो कि नवा-ए-आशिक़ाना जो दिलों को फ़त्ह कर ले वही फ़ातेह-ए-ज़माना
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
خواہ وہ دل لبھانے کی ادا ہو یا عاشق کی پکار، جو دلوں کو جیت لے حقیقت میں وہی دنیا کا فاتح ہے۔
2
ये तिरा जमाल-ए-कामिल ये शबाब का ज़माना दिल-ए-दुश्मनाँ सलामत दिल-ए-दोस्ताँ निशाना
یہ ترا جمال کامل یہ شباب کا زمانہ دل دشمناں سلامت دل دوستاں نشانہ
آپ کا یہ مکمل حسن اور جوانی کا یہ زمانہ ایسا ہے کہ دشمنوں کے دل تو سلامت رہتے ہیں، مگر دوستوں کے دل نشانہ بن جاتے ہیں۔
3
कभी हुस्न की तबीअत न बदल सका ज़माना वही नाज़-ए-बे-नियाज़ी वही शान-ए-ख़ुसरवाना
کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ وہی ناز بے نیازی وہی شان خسروانہ
زمانہ کبھی بھی حسن کی فطرت کو نہیں بدل سکا، اس میں آج بھی وہی بے نیازی کا ناز اور وہی شاہانہ انداز باقی ہے۔
4
मैं हूँ उस मक़ाम पर अब कि फ़िराक़ ओ वस्ल कैसे मिरा इश्क़ भी कहानी तिरा हुस्न भी फ़साना
میں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسے مرا عشق بھی کہانی ترا حسن بھی فسانہ
اب میں ایسے مقام پر ہوں جہاں جدائی اور وصال کی کوئی اہمیت نہیں رہی؛ میرا عشق بھی محض ایک کہانی بن گیا ہے اور تمہارا حسن بھی صرف ایک فسانہ۔
5
मिरी ज़िंदगी तो गुज़री तिरे हिज्र के सहारे मिरी मौत को भी प्यारे कोई चाहिए बहाना
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
میری زندگی تو تمہاری جدائی کے سہارے گزر گئی، لیکن اے پیارے، اب میری موت کے لیے بھی کوئی بہانہ چاہیے۔
6
तिरे इश्क़ की करामत ये अगर नहीं तो क्या है कभी बे-अदब न गुज़रा मिरे पास से ज़माना
ترے عشق کی کرامت یہ اگر نہیں تو کیا ہے کبھی بے ادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ
اگر یہ تیرے عشق کی کرامت نہیں تو اور کیا ہے، کہ یہ زمانہ کبھی میرے پاس سے بے ادبی کے ساتھ نہیں گزرا۔
7
तिरी दूरी ओ हुज़ूरी का ये है अजीब आलम अभी ज़िंदगी हक़ीक़त अभी ज़िंदगी फ़साना
تری دوری و حضوری کا یہ ہے عجیب عالم ابھی زندگی حقیقت ابھی زندگی فسانہ
تمہاری دوری اور موجودگی کا یہ عجیب عالم ہے کہ ایک لمحے زندگی حقیقت معلوم ہوتی ہے اور اگلے ہی لمحے ایک فسانہ۔
8
मिरे हम-सफ़ीर बुलबुल मिरा तेरा साथ ही क्या मैं ज़मीर-ए-दश्त-ओ-दरिया तू असीर-ए-आशियाना
مرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیا میں ضمیر دشت و دریا تو اسیر آشیانہ
اے میرے ہم آواز بلبل! بھلا میرا اور تیرا کیا ساتھ؟ میں صحرا اور دریا کا دل اور روح ہوں، جبکہ تو محض اپنے گھونسلے کا قیدی ہے۔
9
मैं वो साफ़ ही न कह दूँ जो है फ़र्क़ मुझ में तुझ में तिरा दर्द दर्द-ए-तन्हा मिरा ग़म ग़म-ए-ज़माना
میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق مجھ میں تجھ میں ترا درد درد تنہا مرا غم غم زمانہ
کیا میں صاف صاف نہ بتا دوں کہ مجھ میں اور تم میں کیا فرق ہے؟ تمہارا درد محض تنہائی کا دکھ ہے، جبکہ میرا غم پورے زمانے کا دکھ ہے۔
10
तिरे दिल के टूटने पर है किसी को नाज़ क्या क्या तुझे ऐ 'जिगर' मुबारक ये शिकस्त-ए-फ़ातेहाना
ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا تجھے اے جگرؔ مبارک یہ شکست فاتحانہ
تمہارے دل کے ٹوٹنے پر کسی کو کتنا فخر اور ناز ہے۔ اے جگرؔ، تمہیں اپنی یہ فتح مندانہ شکست مبارک ہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.