وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ — جگر مرادآبادی
“Be it the charm of sweet allure or a lover's tender strain, whoever conquers human hearts is the conqueror of the world's domain.”
معنی
خواہ وہ دل لبھانے کی ادا ہو یا عاشق کی پکار، جو دلوں کو جیت لے حقیقت میں وہی دنیا کا فاتح ہے۔
تشریح
یہ شعر فتح اور حکمرانی کے روایتی تصور کو بدل کر محبت کی عظمت بیان کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک تلوار کے زور پر خطے اور سلطنتیں تسخیر کرنے والے نہیں، بلکہ دلوں کو جیتنے والے ہی اصل فاتح ہوتے ہیں۔ چاہے وہ محبوب کا دلکش انداز ہو یا کسی سچے عاشق کی پردرد پکار، جو انسانوں کے دلوں کو مسخر کر لے، وہی اس زمانے کا اصل فرمانروا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
