کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ — جگر مرادآبادی
“The turning world could never change the temperament of beauty: still that same haughty aloofness, still that royal, sovereign grace.”
معنی
زمانہ کبھی بھی حسن کی فطرت کو نہیں بدل سکا، اس میں آج بھی وہی بے نیازی کا ناز اور وہی شاہانہ انداز باقی ہے۔
تشریح
زمانہ لاکھ کروٹیں بدل لے اور دنیا کی ہر شے کو بدل کر رکھ دے، مگر حسن کا بانکپن اور اس کی فطرت کبھی نہیں بدلی۔ محبوب کی وہی دلکش بے نیازی اور دلوں پر راج کرنے والی بادشاہانہ شان آج بھی جوں کی توں قائم ہے۔ دراصل عاشق بڑی اپنائیت اور پیاری سی بے بسی سے یہ اعتراف کر رہا ہے کہ حسن کی خودداری اور اس کا ناز وقت کے ہر اثر سے آزاد ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
