مرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیا — جگر مرادآبادی

مرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیا میں ضمیر دشت و دریا تو اسیر آشیانہ

“O nightingale, my fellow singer, what kinship lies between us two? I am the soul of sands and seas, while captive to your nest are you.”

— جگر مرادآبادی

معنی

اے میرے ہم آواز بلبل! بھلا میرا اور تیرا کیا ساتھ؟ میں صحرا اور دریا کا دل اور روح ہوں، جبکہ تو محض اپنے گھونسلے کا قیدی ہے۔

تشریح

اس دل نشین شعر میں شاعر بلبل کو اپنا ہم نغمہ تو مانتا ہے، مگر دونوں کے ظرف اور نظر کا بڑا بنیادی فرق واضح کرتا ہے۔ بلبل اپنے چھوٹے سے گھونسلے کی محفوظ قید اور راحت میں گم ہے، جب کہ شاعر کا ضمیر صحرا اور سمندر کی بے کراں وسعتوں اور آزادیوں کا امین ہے۔ یہ شعر دراصل انسان کو ایک محدود دائرے کی آسائشوں سے نکل کر بلند نگاہی اور لامتناہی امکانات کو گلے لگانے کا خوبصورت پیغام دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.