میں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسے — جگر مرادآبادی
“I stand at such a stage where parting and union hold no meaning; my love has become a tale, and your beauty but a legend.”
معنی
اب میں ایسے مقام پر ہوں جہاں جدائی اور وصال کی کوئی اہمیت نہیں رہی؛ میرا عشق بھی محض ایک کہانی بن گیا ہے اور تمہارا حسن بھی صرف ایک فسانہ۔
تشریح
شاعر یہاں عشق کے اس پرسکون مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں جدائی کا الم اور وصال کی آرزو دونوں بےمعنی ہو جاتے ہیں۔ جذباتی تپش اور وقت کی گرد نے اس کڑے تعلق کو ایک میٹھے اور دور دراز کے افسانے میں بدل دیا ہے۔ اب نہ محبوب کی دلکشی کوئی چلتی پھرتی حقیقت رہی اور نہ عاشق کا جنون، بلکہ دونوں فقط قصے کہانیوں کی طرح یادوں کے ورق بن چکے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
