مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے — جگر مرادآبادی

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

“My life was spent sustained by the sorrow of our parting; even my death, beloved, now requires some excuse.”

— جگر مرادآبادی

معنی

میری زندگی تو تمہاری جدائی کے سہارے گزر گئی، لیکن اے پیارے، اب میری موت کے لیے بھی کوئی بہانہ چاہیے۔

تشریح

اس شعر میں ہجر و فراق کا ایک نہایت دلکش اور پُراثر تضاد چھپا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ جینے کے لیے اسے کسی آسائش یا وصل کی نہیں، بلکہ تیری دوری کے درد ہی کی بیساکھی کافی رہی جس نے عمر بھر زندہ رکھا۔ اب جب وہ زندگی کی آخری دہلیز پر ہے، تو پیار بھرے انداز میں کہتا ہے کہ اس سفر کو تمام کرنے اور مرنے کے لیے بھی تو تیرے التفات یا کسی بہانے کی ضرورت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.