غزل

بیمار عشق رنج و محن سے نکل گیا

بیمار عشق رنج و محن سے نکل گیا

Source: Kulliyat-e-Aatish (Matba Munshi Naval Kishore, Lucknow) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
बीमार-ए-इश्क़ रंज-ओ-मेहन से निकल गया बेचारा मुँह छुपा के कफ़न से निकल गया
بیمار عشق رنج و محن سے نکل گیا بیچارہ منھ چھپا کے کفن سے نکل گیا
عشق کا بیمار آخرکار رنج و تکلیف سے نجات پا گیا، اور وہ بےچارہ اپنا منھ چھپا کر کفن سے بھی نکل گیا۔
2
मुर्ग़ान-ए-बाग़ आतिश-ए-गुल ने जला दिए सय्याद हाथ मलते चमन से निकल गया
مرغان باغ آتش گل نے جلا دیے صیاد ہاتھ ملتے چمن سے نکل گیا
باغ کے پرندوں کو پھولوں کی آگ نے جلا دیا، اور شکاری ہاتھ ملتا ہوا چمن سے نکل گیا۔
3
पैक-ए-निगाह चश्मा-ए-हैवान दहन में है बचकर अगर ये चाह-ए-ज़क़न से निकल गया
پیک نگاہ چشمۂ حیوان دہن میں ہے بچکر اگر یہ چاہ ذقن سے نکل گیا
میری نگاہ کا قاصد اُس دہن میں ہے جہاں آبِ حیات کا چشمہ ہے؛ کاش وہ اُس ٹھوڑی کے گڑھے کے کنویں سے بچ کر سلامت نکل آئے۔
4
देखा जो मुझ ग़रीब को बू-ए-अदम के कोस मुद्दत से था ये अपने वतन से निकल गया
دیکھا جو مجھ غریب کو بوئے عدم کے کوس مدت سے تھا یہ اپنے وطن سے نکل گیا
جب عدم کی خوشبو نے مجھ غریب کو دیکھا تو وہ بھاگ نکلی؛ مدت سے وہ اپنے وطن سے نکلنا چاہتی تھی۔
5
आलम जो था मुतीअ हमारे कलाम का क्या इस्म-ए-आज़म अपने दहन से निकल गया
عالم جو تھا مطیع ہمارے کلام کا کیا اسم اعظم اپنے دہن سے نکل گیا
جو سارا جہان ہماری بات کا فرمانبردار تھا، کیا اسمِ اعظم ہمارے منہ سے نکل گیا؟
6
जोश-ए-जुनूँ ने फ़स्दों से मुतलक़ कमी न की सेरों लहू हमारे बदन से निकल गया
جوش جنون نے فصدون سے مطلق کمی نہ کی سیرون لہو ہمارے بدن سے نکل گیا
جوشِ جنون نے فصد کھولنے میں کوئی کمی نہ کی؛ ہمارے بدن سے سیروں خون نکل گیا۔
7
आवेज़ा तेरे गोश का हो इस उमीद पर क्या क्या अक़ीक़ कान में से निकल गया
آویزہ ترے گوش کا ہو اس اُمید پر کیا کیا عقیق کان مین سے نکل گیا
اِس اُمید پر کہ وہ تیرے کان کا آویزہ بن جائے، نہ جانے کتنے عقیق کان میں سے نکل گئے۔
8
ज़ंजीर का वो ग़ुल नहीं ज़िंदान में अल-मजनून दीवाना क़ैद-ख़ाना-ए-तन से निकल गया
زنجیر کا وہ غل نہین زندان مین المجنون دیوانہ قید خانۂ تن سے نکل گیا
زنجیروں کی وہ آواز اب زندان میں نہیں گونجتی، اے مجنوں؛ وہ دیوانہ جسم کی قید سے نکل کر چلا گیا۔
9
रुतबा को तेरे सुन के शबक है के हर ग़ज़ाल दीवाना हो के दश्त-ए-ख़ुतन से निकल गया
رتبہ کو تیرے سُن کے شبک ہے کے ہر غزال دیوانہ ہو کے دشت ختن سے نکل گیا
تیرے بلند مرتبے کی شان سُن کر ہر غزال حیران رہ گیا اور دیوانہ ہو کر دشتِ ختن سے نکل بھاگا۔
10
फिर तिफ़्ल-ए-हीला-जू का बहाना न मानियो आतिश वो अबकी बार तो फ़न से निकल गया
پھر طفل حیلہ جو کا بہانہ نہ مانیو آتش وہ ابکی بار تو فن سے نکل گیا
اس چالاک، بہانے تراشنے والے بچے کے بہانے پر پھر یقین نہ کرنا، کیونکہ آتش اس بار اپنے فن سے بچ نکلا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.