عالم جو تھا مطیع ہمارے کلام کا — خواجہ حیدر علی آتش
“The whole world once was subject to the magic of my speech— has the mightiest name of God slipped loose from my own mouth?”
معنی
جو سارا جہان ہماری بات کا فرمانبردار تھا، کیا اسمِ اعظم ہمارے منہ سے نکل گیا؟
تشریح
اس شعر میں شاعر اُس زمانے کو یاد کرتا ہے جب اُس کے کلام میں ایسا سحر تھا کہ ساری دنیا اُس کے تابع تھی۔ 'اسمِ اعظم' وہ سب سے بڑا اور مقدس نام ہے جسے کہتے ہی ہر مراد پوری ہو جاتی ہے۔ شاعر حیرت سے پوچھتا ہے کہ کہیں وہی انمول نام اُس کے دہن سے تو نہیں نکل گیا جس کے سبب اُس کے لفظوں میں اتنی طاقت آ گئی—اس میں اپنی قوتِ گفتار پر فخر کے ساتھ ایک میٹھا سا تعجب بھی پوشیدہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
