مرغان باغ آتش گل نے جلا دیے — خواجہ حیدر علی آتش
“The fire of roses burned to death the garden's birds, The fowler, wringing his hands in grief, walked out of the garden.”
معنی
باغ کے پرندوں کو پھولوں کی آگ نے جلا دیا، اور شکاری ہاتھ ملتا ہوا چمن سے نکل گیا۔
تشریح
ذرا تصور کیجیے — باغ کے پرندے شکاری کے جال سے نہیں، بلکہ گلوں کی آگ سے جل کر خاک ہو گئے۔ یہاں 'آتشِ گل' یعنی پھولوں کی سرخی ایک ایسی آفت بن جاتی ہے جو حسن اور عشق دونوں کی تپش کو ظاہر کرتی ہے۔ اور سب سے دردناک بات یہ کہ شکاری، جو خود ان پرندوں کا دشمن تھا، اب ہاتھ ملتے ہوئے خالی چمن سے نکل جاتا ہے — یعنی جب حسن کی آگ ہی سب کچھ پھونک دے تو دشمن کی سازشیں بھی بے معنی ہو جاتی ہیں، اور بربادی اتنی مکمل ہے کہ دشمن تک کو افسوس ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
