آویزہ ترے گوش کا ہو اس اُمید پر — خواجہ حیدر علی آتش
“In hope of becoming the pendant for your ear, how many an agate has emerged from the mine of the earth”
معنی
اِس اُمید پر کہ وہ تیرے کان کا آویزہ بن جائے، نہ جانے کتنے عقیق کان میں سے نکل گئے۔
تشریح
ذرا سوچیے، زمین کی گہرائیوں سے کتنے ہی عقیق کے نگینے اِسی ایک اُمید میں باہر نکل آئے کہ شاید وہ تمہارے کان کی بالی بن کر تمہارے قریب رہ سکیں۔ شاعر یہاں محبوب کے حسن کی وہ کشش دکھاتا ہے جو بے جان پتھروں کو بھی قربت کی تمنا میں اپنی محفوظ جگہ سے نکلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اِس میں ایک گہری بات چھپی ہے—محبوب سے نزدیکی کی خواہش اتنی زبردست ہے کہ وہ ساری کائنات کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
