دیکھا جو مجھ غریب کو بوئے عدم کے کوس — خواجہ حیدر علی آتش
“When the fragrance of oblivion beheld this poor wretch of mine, It fled—for ages it had longed to leave its native land behind.”
معنی
جب عدم کی خوشبو نے مجھ غریب کو دیکھا تو وہ بھاگ نکلی؛ مدت سے وہ اپنے وطن سے نکلنا چاہتی تھی۔
تشریح
اس شعر میں شاعر خود کو اتنا بے چارہ اور غریب دکھاتا ہے کہ جب 'عدم' یعنی نیستی اور فنا کی خوشبو نے اسے ایک لمحے کے لیے دیکھا تو وہ گھبرا کر بھاگ نکلی۔ شاعر مزے سے کہتا ہے کہ یہ خوشبو تو مدتوں سے اپنے وطنِ عدم سے نکلنے کا بہانہ ڈھونڈ رہی تھی، اور میری ابتر حالت نے اسے وہ موقع فراہم کر دیا۔ اپنی بدحالی پر ایک نرم سی ہنسی کے پیچھے یہ گہرا احساس چھپا ہے کہ انسان کبھی اتنا تنہا ہو جاتا ہے کہ موت اور فنا بھی اس سے کنارہ کش ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
