جوش جنون نے فصدون سے مطلق کمی نہ کی — خواجہ حیدر علی آتش

جوش جنون نے فصدون سے مطلق کمی نہ کی سیرون لہو ہمارے بدن سے نکل گیا

“The frenzy of my passion spared no measure in its bleedings; pounds of blood have poured and drained out from my body.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

جوشِ جنون نے فصد کھولنے میں کوئی کمی نہ کی؛ ہمارے بدن سے سیروں خون نکل گیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے عشق کے جنون کو ایک حکیم کی طرح پیش کرتا ہے جو 'فصد' یعنی خون نکالنے کے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ جیسے پرانے زمانے میں بیماری دور کرنے کو رگ کھول کر خون نکالا جاتا تھا، ویسے ہی جنون کے جوش نے اس کے بدن سے سیروں خون بہا دیا۔ گہری بات یہ ہے کہ یہ جنون خود ہی مرض ہے اور خود ہی دوا — یہ عاشق کو اندر سے زخمی کرتا ہے، اور یہی بہنا اس کی تڑپ کو زندہ رکھتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.