پیک نگاہ چشمۂ حیوان دہن میں ہے — خواجہ حیدر علی آتش
“The messenger of my gaze, with the fountain of life within his mouth— if he but escapes, unharmed, from the pit of that dimpled chin.”
معنی
میری نگاہ کا قاصد اُس دہن میں ہے جہاں آبِ حیات کا چشمہ ہے؛ کاش وہ اُس ٹھوڑی کے گڑھے کے کنویں سے بچ کر سلامت نکل آئے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنی نگاہ کو ایک قاصد کی مانند تصور کرتا ہے جو محبوب کی طرف بھیجا گیا ہے، جس کے دہن میں آبِ حیات کا چشمہ موجود ہے۔ مگر محبوب کی ٹھوڑی کا گڑھا ایک گہرے کنویں (چاہِ ذقن) جیسا ہے، جس میں گر جانے کا خطرہ ہے۔ شاعر کی آرزو یہ ہے کہ کاش اس کی نگاہ اس دلکش گڑھے سے بچ کر محبوب کے لبوں تک، اُس زندگی بخش آبِ حیات تک پہنچ جائے — مگر عشق میں ایسا بچ نکلنا کہاں ممکن ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
