پھر طفل حیلہ جو کا بہانہ نہ مانیو — خواجہ حیدر علی آتش

پھر طفل حیلہ جو کا بہانہ نہ مانیو آتش وہ ابکی بار تو فن سے نکل گیا

“Trust not again the pretext of that cunning, excuse-seeking child— For Atish, this time, has slipped away through his artful guile.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

اس چالاک، بہانے تراشنے والے بچے کے بہانے پر پھر یقین نہ کرنا، کیونکہ آتش اس بار اپنے فن سے بچ نکلا۔

تشریح

اس شعر میں آتش خود کو ایک چالاک، بہانے بنانے والے بچے کی صورت پیش کرتے ہیں جو اپنی ہوشیاری سے ہر بار بچ نکلتا ہے۔ 'فن سے نکل جانا' میں خوبصورت دوہرا مفہوم ہے — ایک طرف جال یا پھندے سے بھاگنا، دوسری طرف اپنے ہنر اور کاریگری کے ذریعے نکل جانا۔ شاعر گویا خود کو خبردار کرتا ہے کہ اس بار تو چال کام کر گئی، مگر اگلی بار اس شریر کے بہانوں پر یقین نہ کرنا — اس میں قسمت، موت یا محبوب کی گرفت سے بچ نکلنے کا ایک میٹھا کھیل پوشیدہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev10 / 10