زنجیر کا وہ غل نہین زندان مین المجنون — خواجہ حیدر علی آتش
“No more that clamor of chains rings out in the prison cell, O Majnun— The madman has broken free from the dungeon of the body and gone.”
معنی
زنجیروں کی وہ آواز اب زندان میں نہیں گونجتی، اے مجنوں؛ وہ دیوانہ جسم کی قید سے نکل کر چلا گیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک گہری بات کہہ رہا ہے — اب زنجیروں کی وہ گونج زنداں میں سنائی نہیں دیتی، کیونکہ مجنوں، یعنی وہ دیوانہ، جسم کے قید خانے سے آزاد ہو چکا ہے۔ یہاں 'تن کا قید خانہ' روح کی علامت ہے جو بدن میں بند تھی، اور موت کو بندھن سے رہائی کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ وہ زنجیریں جو کبھی بے چینی اور عشق کے جنون کی نشانی تھیں، اب خاموش ہیں — گویا سچی آزادی تبھی ملی جب جان نے جسم کو چھوڑ دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
