بیمار عشق رنج و محن سے نکل گیا — خواجہ حیدر علی آتش

بیمار عشق رنج و محن سے نکل گیا بیچارہ منھ چھپا کے کفن سے نکل گیا

“The one sick with love escaped from sorrow and from toil at last, The poor soul, hiding his face, slipped away even from the shroud's hold.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

عشق کا بیمار آخرکار رنج و تکلیف سے نجات پا گیا، اور وہ بےچارہ اپنا منھ چھپا کر کفن سے بھی نکل گیا۔

تشریح

اس شعر میں عشق کا مارا عاشق آخرکار دنیا کے رنج و غم سے نجات پا جاتا ہے — مگر موت کے ذریعے۔ شاعر ایک نرم اور طنزیہ اداسی کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ بیچارہ اتنا شرمندہ اور ٹوٹا ہوا تھا کہ اپنا منہ چھپا کر کفن سے بھی نکل گیا، گویا قبر میں بھی اسے سکون نصیب نہ ہوا۔ گہرائی یہ ہے کہ عشق کا درد اتنا بڑا ہے کہ نہ زندگی میں چین ملتا ہے نہ موت میں — ایک دل کو چھو لینے والی ہار کا منظر۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 10Next →