Sukhan AI
غزل

شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا

شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
مرزا غالب· Ghazal· 11 shers· radif: था

یہ غزل ایک ایسی رات کو بیان کرتی ہے جہاں عاشق کے دل کا غم اتنا گہرا ہے کہ اس کی آگ سے بادل بھی پانی پانی ہو جاتے ہیں۔ یہ عاشق کے بے پناہ آنسوؤں اور تکیے کے سیلاب میں بدل جانے کے منظر کو، محبوب کی بے حسی، خود آرائی اور اس کے گرد و پیش کی خوبصورتی کے ساتھ تضاد میں پیش کرتی ہے۔ عاشق کا کرب اتنا شدید ہے کہ آنسوؤں کے سیلاب میں اس کی بصارت بھی گم ہو جاتی ہے، جبکہ محبوب ان دکھوں سے بے خبر رہتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
शब कि बर्क़-ए-सोज़-ए-दिल से ज़हरा-ए-अब्र आब था शो'ला-ए-जव्वाला हर यक हल्क़ा-ए-गिर्दाब था
اس رات، دل کے جلتے ہوئے درد کی بجلی سے بادل کا جوہر پانی ہو گیا تھا۔ بھنور کا ہر ایک حلقہ ایک گھومتا ہوا شعلہ تھا۔
2
वाँ करम को उज़्र-ए-बारिश था इनाँ-गीर-ए-ख़िराम गिर्ये से याँ पुम्बा-ए-बालिश कफ़-ए-सैलाब था
وہاں کرم کو بارش کا عذر تھا جس نے اس کی رفتار کو تھام رکھا تھا۔ یہاں، میرے رونے سے تکیے کی روئی سیلاب کا کف بن گئی تھی۔
3
वाँ ख़ुद-आराई को था मोती पिरोने का ख़याल याँ हुजूम-ए-अश्क में तार-ए-निगह नायाब था
وہاں، خود آرائی کو موتی پرونے کا خیال تھا۔ یہاں، آنسوؤں کے ہجوم میں نگاہ کا دھاگہ نایاب تھا۔
4
जल्वा-ए-गुल ने किया था वाँ चराग़ाँ आबजू याँ रवाँ मिज़्गान-ए-चश्म-ए-तर से ख़ून-ए-नाब था
وہاں پھولوں کی جلوہ نمائی نے ندی کو روشن کیا تھا، اور یہاں آنسوؤں سے بھیگی پلکوں سے خالص خون بہہ رہا تھا۔
5
याँ सर-ए-पुर-शोर बे-ख़्वाबी से था दीवार-जू वाँ वो फ़र्क़-ए-नाज़ महव-ए-बालिश-ए-किम-ख़्वाब था
یہاں میرا پُرشور، بے خواب سر دیوار کو ڈھونڈ رہا تھا۔ وہاں، وہ نازک پیشانی ریشمی تکیے میں محو تھی۔
6
याँ नफ़स करता था रौशन शम-ए-बज़्म-ए-बे-ख़ुदी जल्वा-ए-गुल वाँ बिसात-ए-सोहबत-ए-अहबाब था
یاں نَفَس بزمِ بے خودی کی شمع روشن کرتا تھا۔ وہاں جلوۂ گل احباب کی صحبت کا بساط تھا۔
7
फ़र्श से ता 'अर्श वाँ तूफ़ाँ था मौज-ए-रंग का याँ ज़मीं से आसमाँ तक सोख़्तन का बाब था
وہاں فرش سے عرش تک رنگوں کی لہروں کا طوفان تھا۔ یہاں زمین سے آسمان تک سوختن کا ایک باب تھا۔
8
ना-गहाँ इस रंग से ख़ूनाबा टपकाने लगा दिल कि ज़ौक़-ए-काविश-ए-नाख़ुन से लज़्ज़त-याब था
ناگہاں اس طرح خون کے آنسو ٹپکنے لگے، وہ دل جو ناخنوں سے کھرچنے کے شوق سے لذت حاصل کرتا تھا۔
9
शब कि ज़ौक़-ए-गुफ़्तुगू से तेरी दिल बेताब था शोख़ी-ए-वहशत से अफ़्साना फ़ुसून-ए-ख़्वाब था
پچھلی رات، میرا دل آپ سے گفتگو کے شوق سے بےتاب تھا۔ جنون کی شرارت کے سبب یہ افسانہ ایک خواب کا جادو بن گیا۔
10
ले ज़मीं से आसमाँ तक फ़र्श थीं बेताबियाँ शोख़ी-ए-बारिश से मह फ़व्वारा-ए-सीमाब था
زمیں سے آسماں تک بے تابیاں فرش کی طرح بچھی تھیں۔ بارش کی شوخی سے چاند پارے کا فوارہ بن گیا تھا۔
11
वाँ हुजूम-ए-नग़्मा-हाए साज़-ए-इशरत था 'असद' नाख़ुन-ए-ग़म याँ सर-ए-तार-ए-नफ़स मिज़राब था
وہاں، اے 'اسد'، عیش کے سازوں سے نکلنے والے نغموں کا ہجوم تھا۔ یہاں، غم کا ناخن سانس کے تار پر مضراب کا کام کر رہا تھا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا | Sukhan AI