याँ नफ़स करता था रौशन शम-ए-बज़्म-ए-बे-ख़ुदी
जल्वा-ए-गुल वाँ बिसात-ए-सोहबत-ए-अहबाब था
“Here, my breath illuminated the lamp of ecstasy's grand assembly,There, the flower's spectacle was the spread for friends' company.”
— مرزا غالب
معنی
یاں نَفَس بزمِ بے خودی کی شمع روشن کرتا تھا۔ وہاں جلوۂ گل احباب کی صحبت کا بساط تھا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
