غزل

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
مرزا غالب· Ghazal· 10 shers· radif: नहीं

یہ غزل جنونِ عشق، اضطراب اور دشت نوردی کی بے پایاں وسعت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ غالب واضح کرتے ہیں کہ دنیا کی کوئی تدبیر یا زنجیر عاشق کے قدم نہیں روک سکتی، کیونکہ اس کی آوارگی کسی مجبوری کی نہیں بلکہ شوقِ بے پایاں کی مرہونِ منت ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
माना-ए-दश्त-नवर्दी कोई तदबीर नहीं एक चक्कर है मिरे पाँव में ज़ंजीर नहीं
مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
صحرا میں آوارہ گردی سے روکنے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہے۔ میرے پاؤں میں کوئی زنجیر نہیں پڑی، بلکہ گردش اور چکر کا عالم ہے جو مجھے مسلسل بھٹکنے پر مجبور کیے ہوئے ہے۔
2
शौक़ उस दश्त में दौड़ाए है मुझ को कि जहाँ जादा ग़ैर अज़ निगह-ए-दीदा-ए-तस्वीर नहीं
شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں جادہ غیر از نگہ دیدۂ تصویر نہیں
میرا شوق مجھے ایسے صحرا میں دوڑائے پھر رہا ہے جہاں تصویر کی آنکھ کی نگاہ کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔
3
हसरत-ए-लज़्ज़त-ए-आज़ार रही जाती है जादा-ए-राह-ए-वफ़ा जुज़ दम-ए-शमशीर नहीं
حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے جادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں
تکلیف اور درد کی لذت پانے کی حسرت دل میں ہی رہ جاتی ہے، کیونکہ وفاداری کا راستہ تلوار کی دھار کے سوا کچھ نہیں۔
4
रंज-ए-नौमीदी-ए-जावेद गवारा रहियो ख़ुश हूँ गर नाला-ज़बूनी कश-ए-तासीर नहीं
رنج نومیدی جاوید گوارا رہیو خوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
کاش کہ ہمیشہ کی مایوسی کا دکھ میرے لیے قابلِ برداشت رہے؛ میں خوش ہوں اگر میری فریاد کو اثر پذیر ہونے کی ذلت نہیں اٹھانی پڑتی۔
5
सर खुजाता है जहाँ ज़ख़्म-ए-सर अच्छा हो जाए लज़्ज़त-ए-संग ब-अंदाज़ा-ए-तक़रीर नहीं
سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے لذت سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں
جہاں بھی سر کا زخم ٹھیک ہونے لگتا ہے وہاں انسان سر کھجاتا ہے؛ پتھروں کی چوٹ کھانے کا مزہ ایسا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
6
जब करम रुख़्सत-ए-बेबाकी-ओ-गुस्ताख़ी दे कोई तक़्सीर ब-जुज़ ख़जलत-ए-तक़सीर नहीं
جب کرم رخصت بیباکی و گستاخی دے کوئی تقصیر بجز خجلت تقصیر نہیں
جب کرم خود بے باکی اور گستاخی کی اجازت دے دے، تو پھر اپنی غلطی پر شرمندہ ہونے کے علاوہ کوئی اور قصور باقی نہیں رہتا۔
7
'ग़ालिब' अपना ये अक़ीदा है ब-क़ौल-ए-'नासिख़' आप बे-बहरा है जो मो'तक़िद-ए-'मीर' नहीं
غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
غالب کہتے ہیں کہ ناسخ کے کہے کے مطابق میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ جو شخص میر تقی میر کی شاعری کا قائل نہیں، وہ خود ہنر اور شعری ذوق سے محروم ہے۔
8
'मीर' के शेर का अहवाल कहूँ क्या 'ग़ालिब' जिस का दीवान कम-अज़-गुलशन-ए-कश्मीर नहीं
میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
اے غالب! میں میر کی شاعری کا کیا حال بیان کروں، جن کا دیوان کشمیر کے خوبصورت گلشن سے کسی طور کم نہیں ہے۔
9
आईना दाम को पर्दे में छुपाता है अबस कि परी-ज़ाद-ए-नज़र क़ाबिल-ए-तस्ख़ीर नहीं
آئینہ دام کو پردے میں چھپاتا ہے عبث کہ پری زاد نظر قابل تسخیر نہیں
آئینہ فضول ہی اپنے جال کو پردے میں چھپاتا ہے، کیونکہ پری جیسی نظر کو قابو یا تسخیر نہیں کیا جا سکتا۔
10
मिस्ल-ए-गुल ज़ख़्म है मेरा भी सिनाँ से तव्वाम तेरा तरकश ही कुछ आबिस्तनी-ए-तीर नहीं
مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام تیرا ترکش ہی کچھ آبستنیٔ تیر نہیں
پھول کی مانند میرا زخم بھی نیزے کے ساتھ جڑواں پیدا ہوا ہے؛ صرف تمہارا ترکش ہی تیروں سے حاملہ نہیں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.