رنج نومیدی جاوید گوارا رہیو — مرزا غالب
“May the sorrow of eternal despair remain bearable to me; I rejoice that my lament suffers not the indignity of having an effect.”
معنی
کاش کہ ہمیشہ کی مایوسی کا دکھ میرے لیے قابلِ برداشت رہے؛ میں خوش ہوں اگر میری فریاد کو اثر پذیر ہونے کی ذلت نہیں اٹھانی پڑتی۔
تشریح
اس شعر میں غالب نے اپنی دائمی مایوسی کو بھی ایک لاجواب خودداری اور وقار بخشا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ہمیشہ کا غم قبول ہے، کیونکہ میری آہ و زاری کسی اثر کی محتاج بن کر ذلیل نہیں ہوئی۔ ان کے نزدیک فریاد کا بے اثر رہ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے درد نے کبھی کسی کے آگے منت نہیں کی اور اپنی انا پر حرف نہیں آنے دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
