حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے — مرزا غالب

حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے جادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں

“The longing for the ecstasy of pain remains unquenched; the path of fidelity is naught but the keen edge of a sword.”

— مرزا غالب

معنی

تکلیف اور درد کی لذت پانے کی حسرت دل میں ہی رہ جاتی ہے، کیونکہ وفاداری کا راستہ تلوار کی دھار کے سوا کچھ نہیں۔

تشریح

غالب اس شعر میں عاشقی کی عجیب کیفیت بیان کرتے ہیں، جہاں دل عشق کی تڑپ اور تکلیف کا لطف اٹھانا چاہتا ہے۔ مگر وفا کا راستہ تلوار کی تیز دھار جیسا ہے، جس پر قدم دھرتے ہی جان چلی جاتی ہے اور درد کو جی بھر کے سہنے کی تمنا ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہ محبت کی وہ لطیف اداسی ہے جہاں عاشق کو جان جانے کا ملال نہیں، بلکہ اس بات کا دکھ ہے کہ تڑپنے کی مہلت بہت کم ملی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.