سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے — مرزا غالب
“The hand scratches at the head wherever the wound begins to mend; the sweet delight of striking stones no words can comprehend.”
معنی
جہاں بھی سر کا زخم ٹھیک ہونے لگتا ہے وہاں انسان سر کھجاتا ہے؛ پتھروں کی چوٹ کھانے کا مزہ ایسا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
تشریح
غالبؔ نے اس شعر میں جنونِ عشق کی اس کیفیت کو خوبصورتی سے باندھا ہے جہاں درد ہی اصل سکون بن جاتا ہے۔ جب سر کے وہ زخم بھرنے لگتے ہیں جو دیوانگی میں پتھر کھانے سے ملے تھے، تو کھجلی کے بہانے عاشق کا ہاتھ پھر وہیں پہنچ جاتا ہے جیسے وہ درد کو تازہ رکھنا چاہتا ہو۔ محبوب کے کوچے میں پتھر کھانے کا جو لطف اور سرور ہے، وہ ایسا احساس ہے جسے لفظوں کے دائرے میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
