مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام — مرزا غالب

مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام تیرا ترکش ہی کچھ آبستنیٔ تیر نہیں

“Like a rose, my wound too is born a twin unto the spear; not your quiver alone is pregnant with arrows.”

— مرزا غالب

معنی

پھول کی مانند میرا زخم بھی نیزے کے ساتھ جڑواں پیدا ہوا ہے؛ صرف تمہارا ترکش ہی تیروں سے حاملہ نہیں ہے۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں زخم اور حسن کا ایک لاجواب استعارہ باندھا ہے۔ وہ اپنے محبوب سے فخریہ کہتا ہے کہ صرف تمہارا ترکش ہی تیروں سے بھرا ہوا نہیں، بلکہ میرا دل بھی نیزے کے ساتھ جڑواں پیدا ہوا ہے اور اس کا ہر زخم گلاب کی طرح کھلتا ہے۔ یہ عاشق کا کمالِ تسلیم و رضا ہے جہاں وہ ستم سہنے اور گھائل ہونے کے جذبے کو اپنی سب سے بڑی پہچان اور فخر بنا لیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev10 / 10