شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں — مرزا غالب
“Longing drives me across such a desert where no path exists save the frozen gaze of a portrait's eye.”
معنی
میرا شوق مجھے ایسے صحرا میں دوڑائے پھر رہا ہے جہاں تصویر کی آنکھ کی نگاہ کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔
تشریح
غالب اس شعر میں جنونِ شوق کی بےتابی اور اس کی لاحاصلی کا ایک عجیب سراب جیسا منظر دکھاتے ہیں۔ دل کی تڑپ عاشق کو ایک ایسے صحرا میں دوڑا رہی ہے جہاں کوئی حقیقی راستہ نہیں، ماسوائے تصویر کی بنی ہوئی اس ساکت آنکھ کی نگاہ کے جو خود ایک جگہ جمی ہوئی ہے۔ یعنی یہ وہ سفر ہے جہاں پاؤں تو دوڑ رہے ہیں مگر راستہ محض ایک ٹھہرا ہوا فریب اور خاموش نظر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
