مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں — مرزا غالب

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں

“No remedy can restrain my roaming through the desert wild; A dizzy whirl spins in my feet, no binding chain has held me bound.”

— مرزا غالب

معنی

صحرا میں آوارہ گردی سے روکنے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہے۔ میرے پاؤں میں کوئی زنجیر نہیں پڑی، بلکہ گردش اور چکر کا عالم ہے جو مجھے مسلسل بھٹکنے پر مجبور کیے ہوئے ہے۔

تشریح

اس شعر میں غالب جنون اور آوارہ خرامی کے اس جذبے کو بیان کر رہے ہیں جسے دنیا کی کوئی تدبیر روک نہیں سکتی۔ لوگ عاشق کے پاؤں میں زنجیر ڈال کر اسے صحرا نوردی سے باز رکھنا چاہتے ہیں، مگر عاشق کہتا ہے کہ یہ زنجیر نہیں بلکہ پاؤں کا چکر اور گردش کا وہ سودا ہے جو اسے رکنے نہیں دیتا۔ یہ اس آزاد روح کی تصویر ہے جس کے مقدر میں ٹھہراؤ کے بجائے صرف لامتناہی سفر لکھا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 10Next →