غزل
یک جا حرفِ وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
یک جا حرفِ وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
یہ غزل وفا کے مٹتے نشانات اور ادھوری آرزوؤں کے شدید کرب کو بیان کرتی ہے، جہاں ہر سانس آتش بار ہے۔ یہ عالمگیر درماندگی میں ہر فرد کی مجبوری کا ذکر کرتی ہے جو نالے سے ناچار ہے۔ بالآخر، یہ ایک الہٰی جلوے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کی بدمستی سے زمین تا آسماں سرشار ہے اور وہی ہر ذرے کی بے قراری کا عذر خواہ ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
एक जा हर्फ़-ए-वफ़ा लिक्खा था सो भी मिट गया
ज़ाहिरन काग़ज़ तिरे ख़त का गलत-बर-दार है
ایک جگہ وفا کا حرف لکھا تھا، وہ بھی مٹ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ تمہارے خط کا کاغذ خراب ہے۔
2
जी जले ज़ौक़-ए-फ़ना की ना-तमामी पर न क्यूँ
हम नहीं जलते नफ़स हर चंद आतिश-बार है
میرا دل ذوقِ فنا کی ناتمامی پر کیوں نہ جلے؟ ہم جلتے نہیں، حالانکہ ہر سانس آتش بار ہے۔
3
आग से पानी में बुझते वक़्त उठती है सदा
हर कोई दरमांदगी में नाले से नाचार है
جب آگ پانی میں بجھتی ہے تو اس سے ایک آواز اٹھتی ہے۔ ہر کوئی اپنی بے چارگی میں آہ و زاری کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
4
है वही बद-मस्ती-ए-हर-ज़र्रा का ख़ुद 'उज़्र-ख़्वाह
जिस के जल्वे से ज़मीं ता आसमाँ सरशार है
وہی ہر ذرے کی بدمستی کا خود عذرخواہ ہے۔ جس کے جلوے سے زمین سے آسمان تک سرشار ہے۔
5
मुझ से मत कह तू हमें कहता था अपनी ज़िंदगी
ज़िंदगी से भी मिरा जी इन दिनों बे-ज़ार है
مجھ سے یہ مت کہو کہ تم ہمیں اپنی زندگی کہتے تھے۔ ان دنوں تو میرا دل زندگی سے بھی بیزار ہے۔
6
आँख की तस्वीर सर-नामे पे खींची है कि ता
तुझ पे खुल जावे कि इस को हसरत-ए-दीदार है
میں نے سرنامے پر آنکھ کی تصویر کھینچی ہے تاکہ تجھ پر یہ ظاہر ہو جائے کہ اسے (آنکھ کو) دیدار کی حسرت ہے۔
7
बिस कि हैरत से ज़ि-पा उफ़्तादा-ए-ज़िन्हार है
नाख़ुन-ए-अंगुश्त-ए-बुत ख़ाल-ए-लब-ए-बीमार है
حیرت اتنی شدید ہے کہ احتیاط خود بھی اپنے پاؤں پر گر پڑی ہے (یعنی بے بس ہو گئی ہے)۔ محبوب کی انگلی کا ناخن ایک بیمار ہونٹ کے تل جیسا ہے۔
8
ज़ुल्फ़ से शब दरमियाँ दादन नहीं मुमकिन दरेग़
वर्ना सद-महशर ब-रेहन-ए-साफ़ी-ए-रुख़्सार है
افسوس، زلفوں کے درمیان رات کو رکھنا ممکن نہیں۔ ورنہ، رخسار کی صاف چمک کے لیے سو قیامتیں گروی رکھی جا سکتی ہیں۔
9
दर-ख़याल आबाद सौदा-ए-सर-ए-मिज़्गान-ए-दोस्त
सद-रग-ए-जाँ जादा-आसा वक़्फ़-ए-नश्तर-ज़ार है
خیالوں میں محبوب کی پلکوں کے سروں کا سودا بسا ہوا ہے۔ سو جان کی رگیں، راستے کی مانند، نشتروں کے میدان کے لیے وقف ہیں۔
10
बस-कि वीरानी से कुफ़्र-ओ-दीं हुए ज़ेर-ओ-ज़बर
गर्द-ए-सहरा-ए-हरम ता-कूचा-ए-ज़ुन्नार है
ویرانی اس قدر زیادہ ہے کہ کفر اور دین دونوں زیر و زبر ہو گئے ہیں۔ حرم کے صحرا کی گرد زُنار کے کوچّے تک جا پہنچی ہے۔
11
ऐ सर-ए-शोरीदा नाज़-ए-'इश्क़ व पास-ए-आबरू
यक तरफ़ सौदा व यकसू मिन्नत-ए-दस्तार है
اے پریشان سر، ایک طرف عشق کا ناز اور آبرو کی پاسداری ہے، اور دوسری طرف سودا (جنون) اور دستار (یعنی سماجی عزت و مقام) کی ذمہ داری ہے۔
12
वस्ल में दिल इंतिज़ार-ए-तुर्फ़ा रखता है मगर
फ़ित्ना ताराज-ए-तमन्ना के लिए दरकार है
وصال کے لمحوں میں بھی دل ایک عجیب انتظار رکھتا ہے، مگر خواہشات کو برباد کرنے کے لیے فتنہ درکار ہے۔
13
ख़ानमाँ-हा पाएमाल-ए-शोख़ी-ए-दा'वे 'असद'
साया-ए-दीवार सैलाब-ए-दर-ओ-दीवार है
اسد، ہمارے گھر ہمارے دعووں کی شوخی سے تباہ ہو گئے ہیں۔ دیوار کا سایہ ہی دروازے اور دیوار کے لیے سیلاب بن گیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
