غزل
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
یہ غزل گہرے افسوس سے معمور ہے، جس میں تقدیر کی بے رحمی پر نوحہ کناں ہے جو حسن اور قابلیت کو ہڑپ کر جاتی ہے، جیسے موتیوں کے لائق انگلیوں کو 'دنداں کا رزق' بنا دیا گیا ہو۔ یہ ذاتی دل شکنی کے کرب کو بھی بیان کرتی ہے، جہاں محبوب کا انگوٹھی نہ دینا اور وقتِ رخصت خالی انگلی دکھانا، انکار اور نامکمل وعدوں کی ایک دلگداز علامت بن جاتا ہے، جس سے نقصان اور جدائی کا گہرا احساس نمایاں ہوتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अफ़्सोस कि दंदाँ का किया रिज़्क़ फ़लक ने
जिन लोगों की थी दर-ख़ुर-ए-अक़्द-ए-गुहर अंगुश्त
افسوس کہ فلک نے ان لوگوں کی انگلیوں کو دانتوں کا رزق بنا دیا، جن کی انگلیاں موتیوں کے ہار پہننے کے لائق تھیں۔
2
काफ़ी है निशानी तिरा छल्ले का न देना
ख़ाली मुझे दिखला के ब-वक़्त-ए-सफ़र अंगुश्त
تمہارا انگوٹھی نہ دینا ہی کافی نشانی ہے، سفر کے وقت مجھے خالی انگلی دکھا کر۔
3
लिखता हूँ 'असद' सोज़िश-ए-दिल से सुख़न-ए-गर्म
ता रख न सके कोई मिरे हर्फ़ पर अंगुश्त
میں اسد، دل کی سوزش سے پُرجوش الفاظ لکھتا ہوں تاکہ کوئی میرے الفاظ پر انگلی نہ اٹھا سکے۔
4
जाता हूँ जिधर सब की उठे है उधर अंगुश्त
यक-दस्त जहाँ मुझ से फिरा है मगर अंगुश्त
میں جہاں بھی جاتا ہوں، ہر کوئی مجھ پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔ دنیا نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے، پھر بھی انگلیاں اٹھاتی رہتی ہے۔
5
मिज़्गाँ की मोहब्बत में जो अंगुश्त-नुमा हूँ
लगती है मुझे तीर के मानिंद हर अंगुश्त
میں اس کی پلکوں کی محبت میں جو لوگوں کی انگلیوں کا نشانہ بنا ہوں، تو مجھے ہر انگلی تیر کی طرح لگتی ہے۔
6
हर ग़ुंचा-ए-गुल सूरत-ए-यक-क़तरा-ए-ख़ूँ है
देखा है किसू का जो हिना-बस्ता सर-ए-अंगुश्त
ہر غنچہ گل خون کے ایک قطرے کی طرح ہے۔ کیا کسی نے مہندی لگی ہوئی انگلی کی نوک دیکھی ہے؟
7
गर्मी है ज़बाँ की सबब-ए-सोख़्तन-ए-जाँ
हर शम' शहादत को है याँ सर-बसर अंगुश्त
زباں کی تیزی جان کے جلنے کا سبب ہے۔ یہاں ہر شمع گواہی کے لیے پوری طرح انگلی ہے۔
8
ख़ूँ दिल में जो मेरे नहीं बाक़ी तो 'अजब क्या
जूँ माही-ए-बे-आब तड़पती है हर अंगुश्त
اگر میرے دل میں خون باقی نہیں رہا تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟ میری ہر انگلی پانی کے بغیر مچھلی کی طرح تڑپتی ہے۔
9
शोख़ी तिरी कह देती है अहवाल हमारा
राज़-ए-दिल-ए-सद-पारा की है पर्दा दर-ए-अंगुश्त
تیری شوخی ہمارا حال بتا دیتی ہے۔ سو ٹکڑوں میں بٹے دل کے راز کو انگلی ظاہر کرتی ہے۔
10
किस रुत्बा में बारीकी-ओ-नर्मी है कि जूँ गुल
आती नहीं पंजा में बस इस के नज़र अंगुश्त
اس میں کتنی نزاکت اور نرمی ہے کہ یہ پھول کی طرح ہاتھ میں نہیں آتی، بلکہ انگلی بس اسے دیکھ ہی پاتی ہے۔
11
मैं उल्फ़त-ए-मिज़्गाँ में जो अंगुश्त नुमा हूँ
लगती है मुझे तीर के मानिंद हर अंगुश्त
میں جو پلکوں کی محبت میں بدنام ہوں، مجھے ہر انگلی تیر کی طرح لگتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
