“I write, 'Asad', with my heart's fervent heat, my ardent lines I frame,So none can fault my words, nor question my claim.”
میں اسد، دل کی سوزش سے پُرجوش الفاظ لکھتا ہوں تاکہ کوئی میرے الفاظ پر انگلی نہ اٹھا سکے۔
یہ شعر 'اسد' کے روپ میں غالب کی ابتدائی آواز ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے دل کی گہری سوزش اور تڑپ سے ایسے گرم، پرجوش اشعار کہتے ہیں۔ اُن کا مقصد یہ ہے کہ اُن کی شاعری اِتنی سچی اور دلی ہو کہ کوئی بھی اُن کے حرف پر انگشت نہ رکھ سکے، یعنی کوئی بھی اُن کے کلام کی صداقت اور معیار پر اعتراض نہ کر پائے۔ یہ اپنے فن کی بے مثال سچائی اور مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
