लिखता हूँ 'असद' सोज़िश-ए-दिल से सुख़न-ए-गर्म
ता रख न सके कोई मिरे हर्फ़ पर अंगुश्त
“I write, 'Asad', with my heart's fervent heat, my ardent lines I frame,So none can fault my words, nor question my claim.”
— مرزا غالب
معنی
میں اسد، دل کی سوزش سے پُرجوش الفاظ لکھتا ہوں تاکہ کوئی میرے الفاظ پر انگلی نہ اٹھا سکے۔
تشریح
یہ شعر 'اسد' کے روپ میں غالب کی ابتدائی آواز ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے دل کی گہری سوزش اور تڑپ سے ایسے گرم، پرجوش اشعار کہتے ہیں۔ اُن کا مقصد یہ ہے کہ اُن کی شاعری اِتنی سچی اور دلی ہو کہ کوئی بھی اُن کے حرف پر انگشت نہ رکھ سکے، یعنی کوئی بھی اُن کے کلام کی صداقت اور معیار پر اعتراض نہ کر پائے۔ یہ اپنے فن کی بے مثال سچائی اور مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔
مشکل الفاظ
सोज़िश— Burning, anguish of the heart, internal pain
सुख़न— Speech, word, poetry, verse
हर्फ़— Letter, character, word
अंगुश्त— Finger (in this context, 'angusht rakhna' implies to find fault, to criticize)
